منگل، 8 اگست، 2017

صادق اور امین کی تلاش



صادق اور امین کے لیے قوم کی بیتابی مجھ سے نہ دیکھی گئی اور میں گھر سے نکلا کہ اگر کوئی صادق اور امین  مل جائے تو قوم کی خدمت میں پیش کر دوں۔ میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب میں نے دیکھا کہ ہمارے معاشرے میں صادق اور امین بھرے پڑے ہیں۔
میں نے  ان میں سے کچھ کی تصویر بھی اپنے موبائل فون کے کیمرے سے اُتاری۔ یہ دیکھیے۔
 


یہ لوگ کراچی کے اُردو بازار میں صابری نہاری کے باہر فُٹ پاتھ پر بیٹھے ہیں۔ انتظار میں ہیں کہ کب کوئی آئے اور پچاس روپے کا کھانا کھلادے۔ یہ صادق ہیں کیونکہ ان کی زبانِ حال  سوائے بھوک کے اور کچھ نہیں کہہ رہی ، اور بھوک سے بڑی سچائی ابھی تک دنیا میں ثابت نہیں کی جا سکی ہے۔ یہ امین بھی ہیں کیونکہ ان کے پاس روپیہ ہے ہی نہیں،  نہ اپنا اور نہ کسی دوسرے کا، جس میں خیانت کا سوال پیدا ہو۔

شام ہو جانے کی وجہ سے میں زیادہ اچھی تصویر نہ اُتار سکا اس لیے انٹرنیٹ سے حاصل  کر کے صادقوں اور امینوں کی ایک زیادہ واضح تصویر پیش کر رہا ہوں، شاید کہ اُتر جائے ترے دل میں مری بات۔ 


ہم کسی صادق اور امین کو وزیرِاعظم بنانا چاہتے ہیں؟ ہم چاہتے ہیں کہ پارلیمنٹ کے تمام ارکان صادق اور امین ہوں؟ صوبوں کے  وزرائے اعلیٰ اور تمام عوامی نمایندے صادق اور امین ہوں؟ آئیے، اِن تصویروں میں جو لوگ دکھائی دے رہے ہیں اُن جیسے ہزاروں لاکھوں میں سے ہم اپنے وزیراعظم، وزیراعلیٰ اور نمایندے منتخب کریں۔

آنکھیں کھول کر دیکھیے، معاشرے میں اتنے صادق اور امین ہیں کہ فُٹ پاتھ  پر جگہ جگہ پڑے ہیں، آپ کے لیے انہیں ٹھوکر لگائے بغیر چلنا محال ہے۔

اِنہوں نے کبھی جھوٹی تعلیمی ڈگریاں پیش نہیں کی ہیں۔ کبھی ٹیکس چوری نہیں کیا ہے۔ ممکن ہے آپ شبہ کریں کہ چھوٹی موٹی چوریاں کی ہوں گی لیکن اسلامی شریعت کی رُو سے چوری اور ڈاکے کی حد بھی ان پر قائم نہیں ہوتی ۔ حضرت عمر فاروقؓ کا فتویٰ ہے کہ قحط میں چوری کی حد نافذ نہیں کی جا سکتی۔ یہ لوگ عالمِ قحط ہی میں زندہ ہیں۔

یہ وہ بے بس ہیں جن کے بارے میں خدا کے رسولؐ کا حکم ہے کہ دن میں ستّر دفعہ ان کے قصور معاف کیے جائیں۔ یہ ہمارے وہ پڑوسی ہیں جن کے لیے رسولؐ نے کہا کہ وہ مسلمان نہیں ہے جو خود پیٹ بھر کر کھائے اور یہ بھوکے ہوں۔ ہم اپنے آپ کو مسلمان کہتے  ہیں جیسے ہمیں رسولؐ کی بات کا اعتبار نہ ہو۔ کیا اِس لیے اب رسولؐ کے بعد کسی دوسرے "صادق اور امین" کی تلاش کی جا رہی ہے کہ وہ یقین دلا سکے کہ اگر یہ لوگ بھوکے رہیں تب بھی ہم مسلمان ہیں؟

جب ہم کہتے ہیں کہ ہمیں پاکستان کے لیے صادق اور امین حکمران چاہئیے تو ہم یہ بات گول کر جاتے ہیں کہ پاکستان بنانے والے قائداعظم کی معنوی اولادیں ہی پاکستان کی جائز وارث ہیں۔ یہ بچے، بوڑھے، عورتیں اور جوان جو سڑکوں پر رُلتے ہیں، یہ ملک انہی کے نام لکھا گیا تھا۔

جب تک ہم یہ تسلیم نہیں کرتے، ہم نہ صادق ہیں نہ امین ہیں۔ اس لیے ہمیں صادق و امین حکمراں بھی نہیں ملیں گے۔

وراثت تسلیم  کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ روٹی، کپڑے اور مکان کا وعدہ کر کے ان سے ووٹ لیے جائیں۔ وہ ڈرامہ بہت بری طرح فلاپ ہو چکا ہے۔ انہیں وارث تسلیم کرنے کا مطلب ان سے ووٹ لینا نہیں بلکہ انہیں ووٹ دینا ہے۔

پچھلی پوسٹ میں عرض کیا تھا، ہماری اجتماعی رائے ہی ہماری تقدیر ہے لیکن ہم اسے سمجھ نہیں پاتے۔ وجہ کیا ہے؟ اجتماعی رائے میں اِن بے گھر، بے سہارا لوگوں کے ارمان، ان کے خواب  بھی شامل ہیں۔ کسی کے ارمان اور خواب تب ہی معلوم کیے جا سکتے  ہیں جب اُس کی نازبرداری کی جائے۔ بھیک اور خیرات دینے سے کسی کے دل کی گہرائیاں ہم پر نہیں کُھل سکتیں۔

یہ ہمارے بچھڑے ہوئے بھائی بہن ہیں۔ اِس بات کو تسلیم کیے بغیر ہم اپنی تقدیر کے مالک نہیں بن سکتے ۔  

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔